علامہ اقبال یونیورسٹی کے سلیبس سے متعلق ایوان بالا میں توجہ دلا ؤنوٹس جمع

امیر جے یو آئی کے پی سینیٹر مولانا عطا الرحمان نے علامہ اقبال یونیورسٹی کے سلیبس سے متعلق ایوان بالا میں توجہ دلا نوٹس جمع کروادیا جس میں کہاگیاکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی گیارہویں جماعت کی کتاب عمرانیات میں نو جوان نسل کو ورغلایا جارہا ہے۔متن کے مطابق مذہب اسلام کو ترقی کا دشمن بتایا جارہا ہے،سلیبس میں خواتین کے پردہ کے متعلق بیہودہ تشہیر کی گئی ہے۔نوٹس میں کہاگیاکہ سود کے متعلق طلبا کا ذہن بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس کے بغیر معیشت بالکل ختم ہوجائے گی۔مولانا عطا الرحمن نے کہاکہ سود کے متعلق قرآن و سنت میں واضح احکامات موجود ہیں،آئین پاکستان کے ماوراء اس قسم کے شر انگیز نصاب کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ڈاکٹر منیر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے قائم مقام وی سی مقرر، قائد اعظم یونیورسٹی کیلئے سمری وزیراعظم کو ارسال

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں سینئر ڈین ڈاکٹر منیر کو قائم مقام وائس چانسلر مقرر کیا جارہا ہے جس کا نوٹیفکیشن (بدھ 23 نومبر)آج جاری ہوجائے گا جبکہ وزارت تعلیم و پیشہ ور تربیت نے قائد اعظم یونیورسٹی میں قائم مقام وائس چانسلر کے تقرر کے لئے تین ڈینز کے ناموں پر مشتمل سمری وزیر اعظم کو بھیج دی ہے وزیراعظم قائم مقام وی سی کے تقرر کے سلسلے میں صدر مملکت/چانسلر کو ایڈوائز کریں گے۔ دونوں جامعات کے وائس چانسلر کی چار سالہ مدت منگل 22 نومبر کو مکمل ہوگئی تھی۔

بینک آف خیبر کے ذریعے طلباء کو انصاف کارڈ دیے جائیں گے، کامران بنگش

صوبائی وزیر تعلیم کامران بنگش نے کہا ہے کہ بینک آف خیبر کے ذریعے طلباء کو انصاف کارڈ دیے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کابینہ اجلاس کے بعد خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے انصاف کارڈ تعلیم کی منظوری دے دی ہے جبکہ صوبائی کابینہ نے بھی انصاف تعلیم کارڈ کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طلباء کے ایک سال کی فیس حکومت ادا کرے گی جبکہ صوبے کے 320 کالجز کے تمام طلباء کو ایک سال کی فیس معاف کردی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینک آف خیبر کے ذریعے طلباء کو انصاف کارڈ دیے جائینگے جبکہ اگلے مرحلے میں یونیفارم اور کتابوں کی فیس ادا کرنے پر غور جاری ہے۔

کامران بنگش نے کہا کہ انصاف تعلیم کارڈ سے موجودہ سکیم میں دو لاکھ ساٹھ ہزار طلباء مستفید ہونگے۔

اسکول جانے کی عمر کے دو کروڑ بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں، مقررین

مقررین نے کہا ہے کہ برسوں کی کامیابیوں کے باوجود، اسکول جانے کی عمر کے دو کروڑ (32) فیصد بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں اسکول سے باہر بچوں کی آبادی کے اندر گروپوں کے لیے چیلنجز مختلف ہوتے ہیں – کچھ غیر رسمی خواندگی کے پروگراموں میں شرکت کر رہے ہیں اور کچھ اسکول جانے کی عمر کے کی حد (5-16 سال سے باہر ہونے کے قریب ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے قومی ورکشاپ سے کیا جس کا موضوع اسکول سے باہر بچوں کو مرکزی دھارے میں لانے کے راستے بنانا تھا۔ ورکشاپ کا اہتمام وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کی وزارت نے کیا تھا۔ ورکشاپ سے وسیم اجمل چوہدری، وفاقی ایڈیشنل سیکرٹری تعلم، عبدالرؤف بلوچ، سیکرٹری- ثانوی تعلیم محکمہ (بلوچستان)، سید نعمان علی شاہ، ایڈیشنل سیکرٹری- ثانوی تعلیم محکمہ (بلوچستان)، ڈاکٹر فوزیہ خان، ایڈیشنل سیکرٹری- محکمہ تعلیم و خواندگی (سندھ) ، اسفند یار خٹک، اسپیشل سیکرٹری، ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (خیبر پختونخوا)، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان نے شرکت کی۔