کفالت پروگرام کے تحت رواں سال مئی سے اکتوبر تک 49.84 ارب روپے مستحقین میں تقسیم

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے رواں سال مئی سے اکتوبر 2022 تک بے نظیر کفالت پروگرام کے مستحقین میں تقریباً 49.84 ارب روپے کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے،کفالت پروگرام سے مستفید ہونے والوں کی تعداد جو کہ ایک غیر مشروط کیش ٹرانسفر (یو سی ٹی ) اقدام ہے، کو مئی سے اکتوبر کے دوران 7.2 ملین سے بڑھا کر 8.5 ملین کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس وقت کفالت پروگرام کے اندراج شدہ/رجسٹرڈ مستفید ہونے والوں کی تعداد تقریباً 8.58 ملین ہے تاہم موجودہ حکومت نے جون 2023 تک اس تعداد کو 9 ملین تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

بی آئی ایس پی بورڈ نے حال ہی میں اس پروگرام کے تحت خواجہ سراؤں کو شامل کرنے کے لئے ایک پالیسی کی منظوری دی ہے جس کے لئے انہیں نادرا سے شناختی کارڈ فارم حاصل کرنا ہوگا جس میں واضح طور پر ان کی جنس کو بطور ‘ٹرانس جینڈر’ درج کیا گیا ہے۔ٹارگٹڈ پٹرولیم سبسڈی پروگرام کے بارے میں ذرائع نے ’’اے پی پی ‘‘کو بتایا کہ مئی سے اکتوبر 2022 تک اس اقدام کے تحت تقریباً 8.67 ملین مستحقین میں تقریباً 17.35 ارب روپے کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔

یہ اقدام غریبوں اور کمزور خاندانوں کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے بچانے کے لئے شروع کیا گیا تھا تاکہ بی آئی ایس پی کے موجودہ باقاعدہ مستفید ہونے والوں کے ساتھ ساتھ نیشنل سوشل اکنامک رجسٹری (این ایس ای آر ) ڈیٹا بیس کا استعمال کرتے ہوئے اضافی فائدہ اٹھانے والوں کو 2,000 روپے کی اضافی نقد سبسڈی فراہم کی جا سکے۔فلڈ ریلیف پروگرام کے بارے میں سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اگست سے اکتوبر 2022 تک وزیر اعظم کے فلڈ ریلیف کیش اسسٹنس پروگرام کے تحت اس سال تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والے تقریباً 2.76 ملین خاندانوں میں تقریباً 69 ارب روپے کی رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔بی آئی ایس پی کے ذریعے ملک بھر میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں فی خاندان 25,000 روپے کی فوری نقد امداد تقسیم کی گئی۔بینظیر تعلیم وظیفہ پروگرام کے تحت جو کہ ایک مشروط کیش ٹرانسفر (سی سی ٹی)مداخلت ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 10.5 ملین بچوں کا اندراج کیا جا چکا ہے تاہم مذکورہ مدت یعنی مئی 2022 سے اکتوبر 2022 تک 1.8 ملین بچوں کا اندراج کیا گیا ہے جبکہ اس عرصے کے دوران 15 ارب روپے کی رقم تعلیمی وظیفہ کے طور پر تقسیم کی گئی ہے۔یہ پروگرام اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے شروع کیا گیا تھا کہ بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے گھرانوں میں بہت سے بچے سکول نہیں جا رہے ہیں، سال 2012 میں بی آئی ایس پی کے مستحق خاندانوں کو پرائمری تعلیم کے حصول کے لئے فی سہ ماہی اضافی نقد رقم فراہم کی ہے۔ جولائی 2021 سے پروگرام کا دائرہ پرائمری سے سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری سطح تک پھیلا ہوا ہے اور فی الحال پورے ملک میں کام کر رہا ہے۔

سی سی ٹی بے نظیر نشوونما پروگرام کے بارے میں سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مئی سے اکتوبر 2022 تک اندراج شدہ مستحقین میں کل 162,964,000 روپے تقسیم کئے گئے ہیں۔پروگرام کا مقصدحاملہ اوردودھ پلانے والی خواتین اوران کے دوسال سے کم عمربچوں میں سٹنٹنگ کی روک تھام ہے، بی آئی ایس پی کے تحت اس طرح کی خواتین کوسہ ماہی بنیادوں پراضافی 2ہزار روپے(بچے کیلئے) اور2500 روپے (بچی) کیلئے فراہم کئے جاتے ہیں، اس کے بدلے میں ماؤں کو حمل کے دوران باقاعدگی سے قبل از پیدائش صحت کی جانچ اور آگاہی سیشنز میں شرکت کرنے، خصوصی غذائیت سے بھرپور خوراک کا استعمال کرنے اور اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات اور صحت کی باقاعدہ جانچ کے لئے لے جانے کا عہد کرنا چاہئے۔

بینظیر انڈر گریجویٹ اسکالرشپ پراجیکٹ (بی یو ایس پی ) کی موجودہ صورتحال کے بارے میں ذرائع نے انکشاف کیا کہ اسکالرشپ کے لئے 10 ہزار طلبا کا اندراج کرکے انرولمنٹ کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔مالی سال 2021-22 کے لئے مختص کردہ 7.346 بلین روپے کا پورا بجٹ مئی 2022 میں جاری کیا گیا تھا۔ موجودہ مالی سال ستمبر 2022 میں مختص کردہ 9.27 بلین روپے کے کل بجٹ میں سے 2.24 بلین روپے کی مزید رقم جاری کی گئی۔ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان بھر کی تمام 132 یونیورسٹیوں کو رقم فراہم کرنے کے عمل میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *