صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا نجی شعبے پر مختلف صنعتوں میں صلاحیتوں کے حامل خصوصی افراد کو ملازمتیں دینے پر زور

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نجی شعبے پر زور دیا ہے کہ وہ مختلف صنعتوں میں صلاحیتوں کے حامل خصوصی افراد (پی ڈبلیو ڈیز) کو ملازمتیں دیں، پی ڈبلیو ڈیز کےلیے 5فیصد کے کوٹے پر نجی شعبے میں بھی عمل کیا جائے ۔

صدر مملکت نے اتوار کوحاجی رزاق جانو میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام بابا فرید فری آئی کیمپس کی تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی افراد کے پاس عام لوگوں جیسی ذہانت ہوتی ہے اور ان کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہیے اور انھیں معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کیا جانا چاہیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، صدر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پی ڈبلیو ڈیز کے حوالے سے بنیادی تشویش بیداری کا فقدان ہونا ہے اور والدین اس حقیقت کو بھی قبول نہیں کرنا چاہتے کہ پی ڈبلیو ڈیزکے پاس عام لوگوں جیسی ذہانت ہوتی ہے اور ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے نجی شعبے پر زور دیا کہ وہ پی ڈبلیو ڈیز کو مختلف صنعتوں میں ملازمتیں دیں اور انہیں ان کی صلاحیتوں کے مطابق نوکریاں دیں، پی ڈبلیو ڈیز کے لیے نئی ملازمتیں پیدا کریں۔

صدر مملکت نے کہا کہ کچھ والدین نے سماجی دباؤ کی وجہ سے اپنے معذور بچوں کو چھپایا اور کچھ بچوں کی معذوری کا مذاق بھی اڑایا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے منفی رویوں کی وجہ سے معذور بچوں کو تعلیم سے محروم رکھا جاتا ہے یا انہیں خصوصی بچوں کے سکولوں تک محدود رکھا جاتا ہے۔صدر مملکت نے معذور بچوں کو مرکزی دھارے کے اسکولوں میں داخل کرنے،

انہیں ہنر فراہم کرنے اور سرکاری اور نجی شعبے کے مختلف اداروں میں ملازمتیں دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ پاکستان میں ذہنی تناؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اسے دور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بہت کم ماہر نفسیات موجود ہیں۔

صدر مملکت نے عوام سے کہا کہ وہ سیلاب متاثرین خاص طور پر سندھ اور بلوچستان کو نہ بھولیں جو شدید سیلاب کی وجہ سے مشکلات سے گزر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تب ہی کامیاب ہو سکتا ہے جب ہم سب اسلام کے احکامات کے مطابق اپنا کردار ادا کریں۔صدر مملکت نے اس حقیقت پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں 20 ملین افراد ہیپاٹائٹس سے متاثر ہیں جو کہ تشویشناک ہے اور اس کا علاج مہنگا ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ہم سب کو حاجی رزاق جانو میموریل ٹرسٹ جیسی سماجی اور فلاحی سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے جس نے گزشتہ 33 سالوں میں 7.4 ملین سے زائد او پی ڈیز اور 310,000 آنکھوں کے آپریشنز کے ساتھ 337 فری آئی کیمپس کا انعقاد کیا ہے۔انہوں نے بابا فرید گنج شکر (رح) کی تعلیمات پر روشنی ڈالی جنہوں نے ہمیشہ لوگوں کی بھلائی کے لیے جدوجہد کی۔

انہوں نے میمن برادری بالخصوص عبدالرحیم جانو اور ان کے خاندان کے افراد کی سماجی اور فلاحی کاموں کی کاوشوں کا بھی اعتراف کیا۔انہوں نے حاجی رزاق جانو میموریل ٹرسٹ کو کامیاب بنانے کے لیے ڈاکٹروں، رضاکاروں اورٹرسٹیز کی حمایت کی اور آئندہ منصوبوں میں مزید کامیابی کی خواہش کا اظہار کیا۔ڈاکٹروں، ٹرسٹیز بشمول فیاض، محمد عمیر درانی، رفیق، جاوید جیلانی اور جاوید اقبال کو ایوارڈز دیئے گئے۔

اردو کانفرس کے آخری روز بھی علم و ادب کے موتی بکھیرے گئے

آرٹس کونسل کراچی میں جاری پندرہویں عالمی اردو کانفرنس کے چوتھے اور آخری روز فکشن اور اردو غزل پر تنقید کی نشستوں کے ساتھ ساتھ ”شوکت صدیقی کے سو سال” پر خصوصی گفتگو کی گئی۔

دنیا بھر سے دانشوروں، ادیبوں اور شاعروں کے علاوہ غیر ملکی مندوبین بھی بڑی تعداد میں اردو کانفرنس کا حصہ رہے۔

پندرہویں عالمی اردو کانفرس کے آخری روز بھی علم و ادب کے موتی بکھیرے گئے۔

پہلی نشست کا آغاز موضوع اکیسویں صدی میں اردو فکشن اور اردو غزل پر تنقید سے ہوا معروف شاعر ضیاء الحسن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی ہندوستان کے باسی مولانا حالی کی لکھی تحریروں سے جڑے ہیں۔

بیرون ملک سے آنے والی معروف شاعرہ نجمہ عثمان نے بھی موضوع اکیسویں صدی میں اردو تنقید کی محفل میں گفتگو کی اور کہا کہ تانیثیت کا مطلب اردو ادب کو عورت کی آنکھ سے دیکھنا ہے۔

دوسری نشست میں موضوع ”شوکت صدیقی کے سو سال“ کے حوالے سے شوکت صدیقی کے صاحبزادے ظفر صدیقی نے گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ والد نے بچوں کو ہمیشہ یہ تعلیم دی کہ پڑھو لکھو اور سیکھو، انھوں نے ہمیشہ اصولوں کے ساتھ زندگی گزارنے کا سبق دیا۔

عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کرنے والے شہریوں کا کہنا تھا کہ اس طرح کی محفلیں نوجوان نسل کو اردو ادب کے بارے میں جاننے اور مستفید کرنے کیلئے ایک بہترین ذریعہ ہیں۔

یونیورسٹی کے وی سی کی صفائی والے سے بدسلو کی کی ویڈیو وائرل

میانوالی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی صفائی پر مامور ورکر سے بدسلوکی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

وائرل ہوتی اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جامعہ کی صفائی ٹھیک سے نہ کرنے پر طلبہ کی موجودگی میں جمیدار سے بدسلوکی کی گئی۔میانوالی یونیورسٹی کے وی سی نے جمیدار کو تذلیل کا نشانہ بنانے کے بعد نوکری سے برخواست کر دیا۔تاہم وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد وی سی نے مذکورہ جمیدار سے معذرت کر کے اسے واپس بلا لیا۔

29 گولڈ میڈلز حاصل کرنے والے طالبعلم کا ملک بھر میں چرچا

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے امیر الدین میڈیکل کالج کے ایم بی بی ایس کے طالب علم حافظ محمد ولید ملک نے 29 گولڈ میڈلز حاصل کر کے ریکارڈ قائم کردیا۔

محمد ولید نے چار سال کے دوران تعلیم میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس کے بعد آخری کانووکیشن پر انہیں 29 گولڈ میڈلز سے نوازا گیا۔ولید نے یہ میڈلز مختلف مضامین میں ٹاپ کر کے، سب سے زیادہ نمبرز اور دیگر کیٹگریز میں حاصل کیا۔

ٹویٹر پر ان کی ویڈیو میں، جو بعد ازاں وائرل ہوگئی دیکھا جاسکتا ہے کہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد بھی انہیں ایک کے بعد ایک میڈلز پہناتے ہوئے ہنس پڑی ہیں۔ورلڈ ریکارڈ ہولڈر گولڈ میڈلسٹ ولید ملک کا کہنا تھا کہ جب ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا تو ابتدا میں تھوڑی مشکلات پیش آئیں لیکن پھر سخت محنت کی جس کے باعث کامیابیاں نصیب ہوئیں۔

ان کے والد کا کہنا ہے کہ ان کے تمام بیٹے اور بیٹیاں ہونہار ہیں اور تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں سر انجام دیتے رہے ہیں لیکن ولید نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔والد کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو دینی، دنیاوی اور اخلاقی تعلیم دی اور وہ خدا کے شکر گزار ہیں جس نے انہیں ان کی محنت کا صلہ دیا ہے۔

خصوصی افراد کو زندگی کے تمام پہلوں میں یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے فعال اقدامات کریں گے،صدر ڈاکٹر عارف علوی کا پیغام

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ خصوصی افراد کے حقوق اور فلاح و بہبود کے فروغ کیلئے پاکستان عالمی برادری کیساتھ ملکر خصوصی افراد کا دن منا رہا ہے، خصوصی افراد یا مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد کو زندگی کے تمام شعبوں میں مساوی اور مکمل طور پر شامل کرنا اہم ہے۔

ہفتہ کو ایوان صدر میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ دنیا میں ایک ارب سے زیادہ افراد یا تقریبا 15فیصد آبادی کسی نہ کسی قسم کی معذوری کا شکار ہے، ان 15 فیصد میں سے 80فیصد خصوصی افراد ترقی پذیر ممالک میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خصوصی افراد کی آبادی کا تخمینہ 10فیصد سے زیادہ ہے جو تشویشناک اعداد و شمار ہیں۔

صدر مملکت نے کہاکہ آج ہم عہد کرتے ہیں کہ اس بڑی آبادی سے جڑے دقیانوسی تصورات کو ختم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر آئیں یہ عہد کریں کہ خصوصی افرادکو زندگی کے تمام پہلوئوں میں یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے فعال اقدامات کریں گے۔

صدر مملکت نے کہاکہ آج ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ خصوصی افراد کو معیاری تعلیم اور ہنر فراہم کریں گے، انھیں معاشی اور مالی طور پر بااختیار بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ معذور افراد کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اور ثقافتی دھارے میں برابری کی حیثیت سے شرکت کے لیے سازگار حالات پیدا کریں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرز خصوصی افراد کو زندگی کے تمام شعبوں کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے لیے خصوصی کوششیں کریں۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کو مرکزی دھارے کے اداروں میں تعلیم کی فراہمی، معیاری صحت سہولیات اور روزگار کی فراہمی یقینی بنائیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ خصوصی افراد کو ان کے ہنر اور صلاحیت کے ساتھ کوٹے کے حساب سے نوکریاں دی جائیں۔

انہوں نے کہاکہ میڈیا خصوصی افراد سے منسلک منفی رویوں اور دقیانوسی تصورات کو دور کرنے اور اِس کی حوصلہ شکنی میں اپنا کردار ادا کرے۔ صدر مملکت نے اس امر پر زور دیا کہ میڈیا معذور افراد کے حقوق اور ان کی طرف ہماری ذمہ داریوں کے بارے میں معاشرے میں شعور اور بیداری پیدا کرے۔

جانوروں کے حقوق سے متعلق مواد تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ

وزیر اعظم شہباز شریف کے اسٹریٹجک ریفارمز یونٹ نے اعلان کیا ہے کہ جانوروں کے حقوق سے متعلق بچوں کو تعلیم دینے کے لیے ایک خصوصی نصاب 9 دسمبر کو جانوروں کے حقوق کے عالمی دن سے پہلے شروع کیا جائے گا۔

یہ بچوں کو پالتو جانور رکھنے اور آوارہ جانوروں کے ساتھ شفقت کے ساتھ سلوک کرنے کی ذمہ داری کے بارے میں سکھانے پر توجہ مرکوز کرے گا۔

وزیر اعظم کے اسٹریٹجک ریفارمز کے سربراہ سلمان صوفی نے ٹویٹر پر جاری بیان میں کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر جانوروں کے حقوق سے متعلق پاکستان کا پہلا نصاب جانوروں کے حقوق کے عالمی دن پر شروع کیا جائے گا۔

ایونٹ سے چند روز قبل آن لائن شرکت کے لیے ایونٹ کی تفصیلات شیئر کریں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پالتو جانوروں کے علاوہ طلباء کو آوارہ جانوروں کے بارے میں بھی پڑھایا جائے گا۔ ’’انہیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ آوارہ کتوں پر پتھر نہیں پھینک سکتے یہاں تک کہ اسلام ہمیں ہر جاندار کا احترام کرنے کا درس دیتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ جانوروں کی حفاظت کیسے کی جانی چاہیے۔‘‘

امریکہ میں چار طلبا کا پراسرار قتل: ’میرے بچوں نے محفوظ سمجھ کر یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا‘

امریکہ کی شمال مشرقی ریاست اوڈاہو میں چار یونیورسٹی طلبا کے قتل کے واقعے کو دو ہفتے سے زائد گزر چکے ہیں۔

بدھ کو ان کی یاد میں منعقدہ تقریب میں شمعیں روشن کی گئیں اور شرکا نے جذباتی تعزیتی پیغامات کے ساتھ ساتھ انھیں ’بھرپور زندگی جینے والے‘ اور ’پرعزم نوجوانوں‘ کے طور پر یاد کیا۔

امریکی ریاست اوڈاہو کے ایک چھوٹے شہر ماسکو میں چار نوجوان یونیورسٹی طلبا کے قتل کے بعد شہر میں خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں، کیونکہ پولیس اب تک ان کے قتل کے ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی ہے۔

چاروں طلبا کو 13 نومبر کو ان کے کرائے کے اپارٹمنٹ میں چاقو کے وار کر کے قتل کیا گیا تھا۔

قتل ہونے والوں میں 20 سالہ ایتھان چیپن، 21 سالہ کیلی گونکلیوز، 20 سالہ ژاناکرنوڈل اور 21 سالہ میڈیسن موگن شامل ہیں۔

ان کی یاد میں منعقدہ تعزیتی تقریب میں ایتھان چیپن کی والدہ کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے اپنے بیٹے اور اس کے دونوں بہن بھائیوں کا داخلہ یونیورسٹی آف اڈاہو میں اس لیے کروایا تھا کیونکہ انھیں کیمپس بہت پسند آیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے تینوں بچوں نے ایک ساتھ اس لیے یہاں داخلے لیا تھا کیونکہ انھیں یہ چھوٹا قصبہ محفوط اور یونیورسٹی کا کیمپس بہت خوبصورت لگا تھا۔‘

قتل ہونے والے چاروں نوجوان یونیورسٹی کی مختلف تنظیموں اور سوسائٹیز کے رکن تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ چاروں طلبا کا قتل ایک ٹارگٹ تھا، تاہم پولیس نے علاقے کی عوام کو محتاط رہنے کا کہا ہے۔

واشنگٹن سے 130 کلومیٹر مسافت پر واقع یہ سرسبز اور کم آباد شہر کی آبادی 25 ہزار افراد پر مشتمل ہے اور یہاں گذشتہ پانچ برسوں کے دوران قتل کی کوئی واردات نہیں ہوئی۔

قصبے میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر یونیورسٹی انتظامیہ نے گذشتہ ہفتے طلبا سے کہا تھا کہ جو طلبا ابھی کیمپس واپس نہیں آنا چاہتے یونیورسٹی ان کے لیے آن لائن کلاسز کا اجرا کرے گی۔

قتل کی رات کیا ہوا تھا؟

پولیس کا کہنا ہے کہ 13 نومبر کی رات چار طلبا اپنے کرائے کے فلیٹ میں مردہ پائے گئے تھے۔ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے انکشاف ہوا تھا کہ انھیں سوتے ہوئے چاقو کے وار کر کے قتل کیا گیا تھا۔

اس واقعے کی رات قتل کی واردات سے قبل دونوں خاتون طلبا گونکلیوز اور موگن ماسکو شہر کی ایک بار میں موجود تھیں۔

انھیں قتل کی رات ایک بج کر 56 منٹ پر گھر پہنچنے سے قبل ایک کھانے کے ٹھیلے پر لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج میں دیکھا گیا ہے۔

جبکہ حملے میں ہلاک ہونے والے دو دیگر طالب علم، مس کرنوڈل اور ان کے بوائے فرینڈ چیپین، یونیورسٹی کیمپس سے کچھ دیر پہلے ہی گھر پہنچے تھے۔

قتل کی واردات کے وقت دیگر دو طالب علم بھی اس وقت گھر پر ہی تھے مگر پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں نہیں لگتا کہ وہ اس جرم میں ملوث تھے۔

پولیس نے اس ڈرائیور کے جو کھانے کے ٹھیلے سے گونکلیوز اور موگن کو گھر لے کر آیا تھا اور ایک شخص جس نے ان دونوں خواتین کو مارے جانے کے دن صبح سویرے کئی بار فون کیا تھا، سمیت متعدد افراد کو مشتبہ قرار دینے سے انکار کیا ہے۔

ایف بی آئی اور اوڈاہو سٹیٹ پولیس کے 25 سے زیادہ تفتیش کار قتل کے اس واقعے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

ریاست کے گورنر براڈ لٹل نے اس کیس کی تحقیقات کے لیے ریاست کے ایمرجنسی فنڈز میں سے دس لاکھ ڈالرز کی رقم کی منظوری دی ہے۔

طلباء کیلئے بری خبر، اساتذہ نے یوم سیاہ کا اعلان کر دیا

جامعہ کراچی میں تنخواہیں رکنے پر اساتذہ نےکلاسز و امتحانات سے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کی جانب سرکاری جامعات کی گرانٹ میں تاخیر کے خلاف جامعہ کراچی میں اساتذہ نےجمعرات کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا، جبکہ اس حوالے سے اساتذہ کا کہنا ہے کہ اگر ایک روز میں گرانٹ جاری نہ کی گئی تو جمعہ سے مارننگ اور ایوننگ پروگرام میں کلاسز اور امتحانی عمل کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

ڈائریکٹر فنانس کی جانب سے تنخواہیں جاری نہ کرنے پر انجمن اساتذہ کی مجلس عاملہ نے بدھ کے روز اجلاس کیا، اجلاس صدر انجمن اساتذہ ڈاکٹر صالحہ رحمٰن کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں فیضان نقوی، غفران عالم اور شاہ علی القدر سمیت دیگر اساتذہ شریک ہوئے۔

اوآئی سی تنظیم کے وفد کی زرعی یونیورسٹی وائس چانسلرز سے ملاقات،غذائی استحکام کیلئے مشترکہ کاوشوں پر اتفاق

او آئی سی کی اسلامی تنظیم برائے غذائی استحکام کے دو رکنی وفد جس میں سفیر و ناظم برائے تعاون و بہبود دولت امبر دییف اورڈی جی یرلان بایدولیت شامل تھے،نے زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں سے ملاقات کی۔

اجلاس میں پرنسپل آفیسر پی آر پی و یونیورسٹی ترجمان پروفیسر ڈاکٹر محمد جلال عارف اور پروفیسر ڈاکٹر ذولفقار علی بھی موجود تھے۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور اسلامی تنظیم برائے غذائی استحکام، جامعہ زرعیہ میں مرکز برائے غذائی استحکام کے قیام کیلئے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لائیں گی تاکہ مسلم ممالک کے زرعی سائنسدانوں کے مابین تعاون کو فروغ دے کر بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کی جاسکیں۔

دولت امبر دییف نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور یہاں سے تیار ہونے والی افرادی قوت انٹرنیشنل سطح پر قابلیت کے اعلیٰ ترین میعارات سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی استحکام آرگنائزیشن میں بین الاقوامی اسلامی تنظیم کے 57 ممالک میں سے 37 ممبرز شامل ہیں۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ پاکستان میں مرکز برائے غذائی استحکام زرعی یونیورسٹی میں نہ قائم کیا جاسکتا ہے بلکہ یہاں پر اس شعبہ میں دستیاب انفراسٹرکچر اور نظام کی موجودگی کی وجہ سے ترقی کے زیادہ امکانات ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غذائی استحکام پوری دنیا کا مسئلہ ہے جس کیلئے بین الاقوامی سطح پر مربوط کاوشوں کی ضرورت ہے اور ان کا حالیہ دورہ زرعی یونیورسٹی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

وائس چانسلر جامعہ زرعیہ فیصل آباد پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ ملک میں غذائی استحکام اور غذائیت کی کمی جیسے اہم چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کیلئے یونیورسٹی میں مرکز اعلیٰ تعلیم برائے خوراک و زراعت، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ پاک کوریا نیوٹریشن سنٹر مسلسل مصروف عمل ہیں جبکہ اسلامی تنظیم برائے غذائی استحکام کے اس مجوزہ منصوبے سے اس شعبے میں نئی پیش رفعت یقینی بنانے میں مدد مل سکے گی۔

بعد ازاں وفد کے اراکین نے یونیورسٹی کے مرکز اعلیٰ تعلیم برائے خوراک و زراعت، سنٹر فار ایگری کلچر ل، بائی کیمسٹری اینڈ بائیو ٹیکنالوجی کا دورہ کیا اور یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری میں آم کے انسائیکلو پیڈیا کا مشاہدہ بھی کیا۔