کراچی کتب میلے کا آغاز، ہزاروں افراد کی آمد، طلبہ کی قطاریں

پاکستان پبلشرز اور بک سیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے 17واں عالمی کتب میلہ کا جمعرات سے کراچی کے ایکسپو سینٹر میں آغاز ہوگیا۔ میلے کا باقاعدہ آغاز افتتاحی تقریب سے ہوا تاہم تقریب سے قبل ہی ہزاروں افراد کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور طلبہ قطاریں بنا کر اندر داخل ہورہے تھے اور کتابیں خرید رہے تھے۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پبلشرز اور بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چئیرمین عزیز خالد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے بچے کتابوں سے پیار کرتے ہیں۔ اس لیے افتتاحی تقریب سے قبل ہی اسکول اور کالجوں کے طلبہ درجوق آمد شروع ہوگئ تھی۔ انھوں نے کہا کاغذ بہت مہنگا ہوگیا ہے ڈیوٹی کم کی جائے تاکہ کتابیں اتنی مہنگی نہ ہوجائیں کہ لوگ پڑھنا چھوڑ دیں۔ اس موقع ڈاکٹر فاطمہ حسن نے نظم “کتاب میری سہیلی” پڑھ کر سنائی۔ لندن سے آئ ہوئی خاتون پبلیشرز میڈم چارلی نے کہا کہ انھیں پاکستان آنے کی خوشی ہوئی یہ بہت اچھا کتب میلہ جس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے کہا کہ کتاب نے دنیا میں ترقی کی راہ ہموار کی لیکن اب دور ڈیجیٹل چیزوں کا ہے نئے بچے کتاب کے ورق پلٹنے کے مزے سے واقف نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم انگریزی بولنے والی ایسی نسل پیدا کررہے جسے ادب و شاعری اور تاریخ کا پتہ نہیں ہم بچوں کو ڈیجیٹل بچہ بنارہے ہیں ہم کو انھیں کتابوں کے طرف لانا ہوگا۔ کتب میلے کہ کنوینئر وقار متین نے کہہ کہ یہ کتب میلہ 12 دسمبر 2022 تک جاری رہے گا جس میں 330 سے زائد کتب کے اسٹال لگائے گئے ہیں اور 17 ممالک کے تقریباً 40 ادارے کتب میلے میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ پاکستان بھر سے 136 نامور پبلشرز نے بھی اپنے اسٹال لگائے ہیں اس بین الاقوامی کتب میلے کو پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی میلے کا بھی اعزاز حاصل ہے جس میں نا صرف پاکستان بھر سے بلکہ ہندوستان ، ترکی، سنگاپور، چین، ملائیشیا، برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے پبلشنگ اداروں نے بھی حصہ لیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *