پاکستان کی انجینئرنگ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز چوتھے صنعتی انقلاب کے چیلنجز اور مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نصاب میں اصلاحات کریں،وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے پاکستان کی انجینئرنگ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز پر زور دیا ہےکہ وہ چوتھے صنعتی انقلاب کے چیلنجز اور مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نصاب میں اصلاحات کریں۔ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے ملک کی انجینئرنگ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، انجینئرنگ انڈسٹری کے نمائندوں، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) اور انسٹی ٹیوشن آف انجینئرز پاکستان (آئی ای پی) کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ “ڈگری پر مبنی تعلیم غیر متعلقہ ہو چکی ہے اور پوری دنیا ہنر مند تعلیم کی طرف بڑھ چکی ہے جبکہ انکا کہنا تھا کہ انجینئرنگ یونیورسٹیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ طلباء کو نئی تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کریں۔وفاقی وزیر نے وائس چانسلرز پر زور دیا کہ وہ اصلاحات کے لیے ایک جامع ایکشن پلان بنائیں جبکہ اس سلسلے میں، ایک ٹاسک فورس کے قیام کا فیصلہ بھی کر دیا گیا ہے جس میں انجینئرنگ یونیورسٹیوں، پاکستان انجینئرنگ کونسل، ہائیر ایجوکیشن کمیشن ، انسٹیٹیوشن آف انجینئرز پاکستان اور انجینئرنگ انڈسٹری کے نمائندے شامل ہونگے۔

ٹاسک فورس مشاورت کے بعد اپنی سفارشات دے گی اور اس کے بعد اس سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال اپریل میں حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے وزیر منصوبہ بندی نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو مالی رکاوٹوں کے باوجود ملک میں یونیورسٹیوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل فنڈنگ کی یقین دہانی کرائی ہے۔

اس سلسلے میں وزارت نے حال ہی میں ملک کی انجینئرنگ یونیورسٹیوں کی لیبارٹریوں کو مزید بہتر کرنے اور جدید ترین لیبارٹریوں کے قیام کے لیے 650 ارب روپے کے ایک منصوبے کی منظوری دی ہے۔ یونیورسٹیوں میں لیبارٹریوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر نے کہا کہ قوموں کی بقا کا انحصار کلاس رومز اور لیبارٹریوں میں ان کی صلاحیت پر ہوگا جبکہ وائس چانسلرز کو انجینئرنگ کی دنیا میں ملک کی انجینئرنگ یونیورسٹیوں کو عالمی برانڈ بنانے پر بھی زور دیا۔

سکولوں کو ڈرگ فری بنانے کیلئے ایجوکیشن اتھارٹی کا بڑا اقدام

سرکاری ونجی تمام سکولوں کے سربراہان سے اداروں کو “ڈرگ فری” ہونے کا سرٹیفکیٹ مانگ لیا گیا۔

تمام سکولوں کے سربراہوں سے سکولوں کے “ڈرگ فری” ہونے کا سرٹیفکیٹ مانگ لیا گیا۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے سکولوں میں منیشات کی روک تھام کے لیے ہدایات جاری کردی ہیں۔سکولوں میں ڈرگ کنٹرول کرنے کیلئے ایک ٹیچر کو نامزد کیا جائے گا۔

نامزد کیا گیا مرد سکول ماحول کو ڈرگ فری بنانے کا ذمے دار ہوگا۔سکول کے اوقات میں کسی طالب علم کے پاس موبائل بھی نہیں ہوگا۔اساتذہ بھی کلاسز کے دوران موبائل فون استعمال نہیں کریں گے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی نے تمام نجی و سرکاری سکولوں کو ہدایات جاری کردیں۔

کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی کی ترقی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جائیگا:وزیر صحت

پروفیسر جاوید اکرم نے عہدے کا حلف لینے کے بعد بطور وزیر صحت پنجاب کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں پہلے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس یونیورسٹی میں طبی تحقیق، کمرشلائزیشن اور اورک کے شعبے کو مضبوط کرنے کے حوالے سے منعقد کیا گیا جس کی صدارت وزیر صحت پنجاب پروفیسر جاوید اکرم نے کی۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر محمود ایاز،فاونڈر پریزڈنٹ ڈاکٹر شہلا جاوید اکرم، پرو وائس چانسلر پروفیسر اعجاز حسین، پروفیسر سائرہ افضل، پروفیسر نقشب چوہدری، پروفیسر اصغر نقی، پروفیسر ابرار اشرف علی، پروفیسر احمد عزیر قریشی، فائنل ائیر ایم بی بی ایس کے طلبا و طالبات موجود تھے۔وزیر صحت پنجاب پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں آنا میرے لئے فخر کی بات ہے بطور کیمکولین اپنے مادوعلمی کی خدمت کی خواہش ہمیشہ رہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اورک کے شعبے کا قیام ہمیشہ سے میری ترجیحات میں شامل رہا ہے۔کیو ایس رینکنگ کے حوالے سے یونیورسٹی میں کام شروع ہونا چاہیے، ہم چاہتے ہیں کہ طلبا و طالبات کو موقع دیں کہ جدید طبی تحقیق میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ یونیورسٹی طبی ایجادات میں خود کفیل ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے بہتری اور ترقی کیلئے تمام تر اقدامات کو ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں وائس چانسلر پروفیسر محمود ایاز کو قلیل عرصے میں ریسرچ کلچر کو عام کرنے اور دیگر منصوبہ جات کی تکمیل پر مبارکباد دیتا ہوں اور ان کی کاوشوں کو سراہتا ہوں۔ڈاکٹر شہلا جاوید اکرم نے بزنس پروسیسز اور انکیوبیٹر بارے تفصیلی بات کی انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی تمام پراڈکٹ کو مارکیٹ کرنے کے سلسلے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

این ای ڈی یونیورسٹی، 105ضرورت مند طلباء میں ماں جی اسکالر شپس تقسیم

ماں جی اسکالر شپس کے ذریعے،این ای ڈی میں میرٹ پر داخلہ ملنے پر، اب کو ئی طالب علم تعلیم سے محروم نہیں رہے گا، آفتاب رضوی نے ایک بیج بویا جو ساڑھے سات کروڑ اکٹھا کرکے ایک تناور درخت بن چکا ہے، آئندہ اس درخت کی آبیاری آپ کے ہاتھ ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ سمیت دیگر مقررین نے کیا۔ جامعہ این ای ڈی کے شعبہ اسٹوڈنٹ افیئرز کے تعاون سے 105 ضرورت مند طالب علموں کو ماں جی اسکالر شپس تقسیم کی گئیں۔ پہلے روز تقریب کے مہمانِ خصوصی این ای ڈی کے المنائی اور ماں جی اینڈومنٹ فنڈ کے روح رواں آفتاب رضوی تھے اور صدارت شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی نے کی جب کہ دوسرے روز تقریب میں مہمان خصوصی وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ تھے۔ اس موقعے پراستقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرز پاکستان کے چیئرمین سہیل بشیر کا کہنا تھا کہ آج 105 کو اسکالر شپس دی ہیں آئندہ ہزارطالب علموں کو اسکالر شپ دینے کا ارادہ ہے۔انہوں نے این ای ڈی کے المنائی اشرف حبیب اللہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج آپ کو اسکالر شپس دی جارہی ہیں کل آپ کو دوسرے طالب علموں کی مدد کرنی ہے۔

موسم سرما کے باعث اسکولوں کے اوقات کار تبدیل، نوٹیفکیشن جاری

کراچی: محکمہ تعلیم نے موسم سرما کے باعث اسکولوں کے اوقات کار تبدیل کردیے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ بھر کے نجی اسکول صبح ساڑھے آٹھ بجے کھولے جائیں گے۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ 31 مارچ تک یہی اوقات کار برقرار رہیں گے۔

واضح رہے کہ اسکولوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا فیصلہ حالیہ سردی کی شدت کے باعث کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی تعلیمی نظام سے مقابلے کے لئے آن لائن جدت ناگزیز ہوچکی ہے ، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ تعلیمی نظام میں انقلاب اور جدت کے بغیر ملک میں ترقی و استحکام ممکن نہیں ، قوموں کی ترقی کا زینہ تعلیم ہے ،ملک کی معاشی صورتحال کے باوجود تعلیم حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو انٹربورڈز کمیٹی آف چیئرمین (آئی بی سی سی)کے سیکرٹریٹ میں جدید تقاضوں سے آراستہ سٹوڈنٹس فسیلیٹیشن سنٹر اور آن لائن اٹیسٹیشن پورٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کے آنے جانے سے تعلیمی شعبہ متاثر ہونے کے قائل نہیں ،مثبت سرگرمیوں کو ہمیشہ جاری رکھنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ آئی بی سی سی کا جدید سہولیات سے آراستہ سٹوڈنٹس فسیلیٹیشن سنٹر اور اٹیسٹیشن پورٹل طلبہ مسائل کے لئے سنگ میل ثابت ہو گا، آئی بی سی سی دن بدن سسٹم میں مثبت تبدیلیوں لاکر طلبہ کے مسائل حل کررہی ہے۔اس موقع پر سیکرٹری آئی بی سی سی ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا، ملک کی بیشتر آبادی نوجوان ہے جسے تعلیم دینا حق ہے ۔

انہوں نے کہا کہ انٹربورڈکمیٹی اپنے وسائل کے باوجود ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے ساتھ طلبہ کے مسائل حل کرنے کیلئے محنت سے کام کررہی ہے،اسلام آباد ملک کا دارلحکومت ہے یہاں سٹیٹ آف دی آرٹ سٹوڈنٹس فسیلیٹیشن سنٹر کے قیام سے طلبہ و طالبات مستفید ہوں گے۔ ڈاکٹر غلام علی ملاح نے کہا کہ آئی بی سی سی کی ترقی حکومت کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ سٹوڈنٹس فسیلیٹیشن سنٹر کی افتاحی تقریب میں چیئرمین فیڈرل بورڈ قیصر عالم نے بھی خصوصی شرکت کی۔تقریب کے اختتام پر سیکرٹری آئی بی سی سی ڈاکٹر غلام علی ملاح نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

تعلیمی بورڈ نے میٹرک اور انٹر کی پیپر مارکنگ کا معاوضہ بڑھا دیا

پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈ نے میٹرک اور انٹر کی پیپر مارکنگ کامعاوضہ بڑھا دیا، پیپر مارکنگ ریٹ 5 روپے تک بڑھنے پر اساتذہ خوش، امتحانی عملے نے بورڈ حکام سے معاوضوں میں سے ٹیکس کٹوتی نہ کرنے کا بھی مطالبہ کردیا۔

پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈ نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی پیپر مارکنگ فیس بڑھا دی، فی پیپر مارکنگ کا ریٹ 5 روپے تک بڑھا دیا گیا، پیپر مارکنگ سٹاف کو مزید سہولیات ملنے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی، میٹرک میں پچاس سے زائد پیپر چیک کرنیوالے ایگزامینرز کو 45 روپے فی پیپر دیا جائےگا،پچاس سے کم کاپیاں چیک کرنے پر فی پیپر ریٹ 35 روپے ملیں گے۔ انٹرمیڈیٹ کے پچاس سے زائد پیپر چیک کرنے پر 50 روپے فی پیپر ملے گا۔

انٹر میں پچاس سے کم کاپیاں چیک کرنیوالے ایگزامینرز کو 40 روپے فی پیپر دیا جائے گا۔اسسٹنٹ ٹو ہیڈ ایگزامینر کو فی پیپر چیک کرنے کا ساڑھے تین روپے ادا کیے جائیں گے۔ پیپر مارکنگ عملے نے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ امتحانی عملے نے ادائیگیاں بغیر ٹیکس کٹوتی کے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

محکمہ تعلیم نے اساتذہ کو بڑی خوشخبری سنا دی

محکمہ تعلیم نے پرموشن پالیسی میں نرمی کردی،اب اساتذہ کو پرموشن کیلئے صرف آخری پانچ سال کی اے سی آر جمع کروانا ہونگی۔

پنجاب بھر کے تین لاکھ اساتذہ کیلئے اچھی خبر،محکمہ تعلیم نے پرموشن پالیسی میں نرمی کردی۔اب اساتذہ کو پرموشن کیلئے تمام سروس کی اے سی آر جمع نہیں کرانا پڑیں گی۔پرموشن کیلئے صرف آخری پانچ سال کی اے سی آر جمع کروانا ہونگی۔ہزاروں اساتذہ کی ترقیاں پچیس، پچس سال سے التواء کا شکار ہیں۔سینکڑوں اساتذہ سست پرموشن سسٹم کے باعث ریٹائرڈ ہوچکے ہیں۔محکمہ تعلیم کےمطابق پالیسی میں نرمی سے اساتذہ کو بروقت ترقیاں مل سکیں گی۔

سکھر کی ویمن اور جامشورو کی اللّٰہ بخش یونیورسٹیز کے وی سی کیلئے انٹرویو آج

شہید اللہ بخش سومرو یونیورسٹی آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیج جامشورو اور بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھرکے وائس چانسلر کے عہدوں کے لیے انٹرویو آج (جمعرات 26 جنوری کو) ہوں گے۔ دونوں جامعات کے لیے30 سے زائد امیدواروں نے درخواستیں دی ہیں۔ شہید اللہ بخش سومرو یونیورسٹی آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیج جامشورو میں ڈاکٹر بھائی خان شر کو8 ستمبر2020 کو قائم مقام وائس چانسلر مقرر کیا گیا جو تاحال اسی عہدے پر کام کررہے ہیں تاہم وہ عہدے کے امیدوار نہیں کیوں کہ تلاش کمیٹی نے عمر کی حد 65 کے بجائے 62 برس مقرر کرکھی ہے اور ڈاکٹر بھائی خان شر کی عمر 62 برس سے زائد ہوچکی ہے ۔ ۔ بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر میں6 مارچ2018 سے مسلسل تیسرا وائس چانسلر قائم مقام ہے اور خواتین یونیورسٹی میں تیسرے قائم مقام وی سی خاتون کی بجائے ایک مرد ڈاکٹر شہزاد نسیم ہیں جبکہ تلاش کمیٹی گزشتہ برس تین خواتین امیدواروں کے نام وزیر اعلیٰ سندھ کو بھیج چکی ہے جن میں ڈاکٹر انیلہ عطاء کا پہلا نمبر تھا تاہم سیکرٹری بورڈز و جامعات مرید راہموں ان سے ناراض تھے اور انھیں لاڑکانہ میڈیکل یونیورسٹی کے عہدے سے ہٹادیا تھا جس کے بعد وہ عدالت سے بحال ہوئیں تھیں۔ انہیں بیگم نصرت بھٹو ویمن یونیورسٹی سکھر کا وائس چانسلر نہیں بنایا گیا اور اسامی دوبارہ مشتہر کردی گئی ۔جمعرات کو تلاش کمیٹی کے اجلاس کی صدارت تلاش کمیٹی کے چیئرمین طارق رفیع کریں گے ۔ کمیٹی کے باقی چار مستقل اراکین میں سیکرٹری کالج ایجوکیشن احمد بخش ناریجو، سیکرٹری سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن معین صدیقی اور سیکرٹری بورڈز و جامعات شریک ہوں گے۔ سندھ کی تلاش کمیٹی کے پانچوں مستقل اراکین میں ایک رکن بھی پی ایچ ڈی نہیں جبکہ کواپٹیڈ رکن کے طور جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر 80 سالہ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم واحد رکن ہوں گے جو پی ایچ ڈی ہوں گے جب کہ دوسرے کواپٹیڈرکن ریٹائرڈ بیوروکریٹ سہیل اکبر شاہ بھی پی ایچ ڈی نہیں۔ یاد رہے کہ آزاد جموں کشمیر کی حکومت نے گزشتہ برس جو تلاش کمیٹی قائم کی تھی اسکے 6 اراکین میں پانچ رکن بیوروکریٹ یا سفارشی شخصیات کے بجائے پی ایچ ڈی ماہرین تعلیم تھے اور اس کی سربراہی سندھ کی شکار پور کی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضا بھٹی نے کی تھی۔اسی طرح خیبر پختون خواہ کی تلاش کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر عطاالرحمن ہیں جن کا تعلق سندھ سے ہے ان کی کمیٹی مین 6 اراکین میں پانچ رکن پی ایچ ڈی ہیں۔

جرمنی جانے والے طلباء کیلئے خوشخبری، بڑی پیشکش

جرمن کمپنی “ایس اے پی” نے آئی ٹی فروغ کے لیے جامعات میں یکم جنوری سے اسٹوڈنٹ زون پروگرام شروع کردیا ہے جسکے تحت پاکستانی طلباء کو مفت تربیت دی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق جرمن سافٹ ویئر کمپنی ایس اے پی کے کنٹری ایم ڈی ثاقب احمد نے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، کلائوڈ مائیگریشن کے عنوان سے میڈیا رائونڈ ٹیبل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسٹوڈنٹ زون کے تحت جامعات کے طلباء کو ایس اے پی سافٹ وئیر میں رسائی دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ایس اے پی نے تمام جامعات کو اسٹوڈنٹ زون پروگرام میں شمولیت کی پیشکش کردی ہے۔ اسٹوڈنٹ زون کے تحت جامعات کے طلباء کو ایس اے پی سافٹ وئیر میں رسائی دی جائے گی۔

ایس اے پی کے کنٹری ایم ڈی ثاقب احمد کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک میں آئی سیکٹر کو فروغ دیکر آئی ٹی کی ایکسپورٹس کو بڑھانا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی اہمیت کو اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں انتظامی تبدیلی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بیروزگاری کے خطرے کے پیش نظر ٹرانسفارمیشن پر لوگوں کا ردعمل ہوتا ہے عالمی سطح پر کاروبار کے طریقے تبدیل ہورہے ہیں۔ پاکستان میں بھی سافٹ وئیر و سلوشنز کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ایس اے پی پاکستان میں سستا سافٹ وئیر وسلوشنز فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایس اے پی کے اربیا سافٹ وئیر کے ذریعے کویڈ میں بیڈز کی قلت کو پورا گیا۔ اقوام متحدہ کے 62 فیصد ممالک ایس اے پی کا سافٹ وئیر استعمال کررہے ہیں اورعالمی سطح کی 90 فیصد کمپنیاں بھی ایس اے پی سافٹ وئیر وسلوشنز استعمال کر رہے ہیں۔

ایس اے پی کے کنٹری ایم ڈی ثاقب احمد کا کہنا تھا کہ کورونا وباء کے دوران پاکستان میں ڈیجیٹلائزیشن کی رفتار انتہائی تیزی رہی لیکن آج مخلتف مالیاتی مسائل کی وجہ سے ڈیجیٹلائزیشن یا ڈیجیٹل منتقلی نیچے آرہی ہے۔

ثاقب احمد نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کو ترقی دینے کے لئے ڈیجیٹل منتقلی ضروری ہے۔ کمپنیوں کو مارکیٹ کو حاصل کرنے کے لئے تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ کاروبار کی ٹرانسفارمیشن کے لیے بنیادی ضرورت درست ڈیٹا کی دستیابی ہے جبکہ ایس اے پی کاروباری اداروں کو درست ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔