انڈیا: سکول میں نظم ’لب پہ آتی ہے دعا‘ پڑھانے کے الزام میں پرنسپل معطل

انڈیا کی ریاست اترپردیش کے ضلع بریلی میں ایک سرکاری سکول کے پرنسپل اور ایک استاد کے خلاف صبح کی اسمبلی کے دوران علامہ اقبال کی نظم ’لب پہ آتی ہے دعا‘ پڑھانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

محکمہ تعلیم نے سکول کی پرنسیپل ناہید صدیقی کو معطل کر دیا ہے اور ایک ’شکشا متر‘ یعنی نیم استاد وزیر الدین کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

یہ مقدمہ اسمبلی میں نظم پڑھتے ہوئے ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ’مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے‘ کے الزام میں کیا گیا ہے۔

ناہید صدیقی اور وزیر الدین کے خلاف ایف آئی آر ہندو قدامت پسند تنظیم ’وشو ہندو پریشد‘ (وی ایچ پی) کے ایک مقامی کارکن سومپال سنگھ راٹھور کی شکایت پر درج کی گئی ہے۔ انھوں نے الزام لگایا ہے کہ طلبہ کا مذہب تبدیل کرانے کے لیے سرکاری سکول میں ’مذہبی دعا‘ پڑھی گئی۔

یہ نظم سکول کے نصاب کا حصہ ہے۔ یہ 1902 میں معروف شاعر علامہ محمد اقبال نے لکھی تھی اور عام طور پر مسلم آبادی والے سکولوں میں اسے ہر صبح اسمبلی میں پڑھا جاتا ہے۔

اقبال نے نظم ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘ بھی لکھی تھی۔

پولیس کو دی گئی شکایت کے مطابق تنظیم کے عہدیدار نے الزام لگایا ہے کہ ’اساتذہ ناہید صدیقی اور وزیر الدین جان بوجھ کر ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے ارادے سے صبح طلبہ کو مسلم طریقے سے دعا پڑھا رہے ہیں اور بچوں کو دھمکا رہے ہیں کہ وہ یہی دعا پڑھیں۔‘

شکایت میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’یہ دونوں اساتذہ ایسا طلبہ کو اسلام کی طرف راغب کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ دونوں اساتذہ ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں اور اس دعا سے طلبا کے مذہب کی تبدیلی کی تیاری کر رہے ہیں۔‘

ریاست کے محکمہ تعلیم کے مقامی افسر ونے کمار نے انڈین اکیسپریس اخبار کو بتایا کہ اس میں ’اللہ کی عبادت کرنا‘ جیسی ایک دعا پڑھی جا رہی تھی۔ یہ (حکومت کی جانب سے) مقرر دعا نہیں ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس لیے سکول کی پرنسیپل ناہید صدیقی کو معطل کر دیا گیا ہے اور وزیر الدین کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

حالانکہ ناہید صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک حکومت کی طرف سے ان سے تحریری طور پر رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

یہ سرکاری سکول پہلی سے آٹھویں جماعت تک ہے اور یہاں تقریباً 265 طلبا تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

دریں اثنا 62 سالہ ناہید صدیقی نے بتایا کہ جب مبینہ واقعہ پیش آیا تو وہ سکول میں نہیں تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’میں 13 تاریخ سے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے چھٹی پر تھی۔ میرے پیچھے ایک استاد آئے اور انھوں نے دعا کے طور پر ’لب پہ آتی ہے‘ پڑھائی۔‘ انھوں نے بتایا کہ ان کی موجودگی میں ایک دوسری نظم پڑھائی جاتی تھی۔

تین سال پہلے اکتوبر 2019 میں ضلع پیلی بھیت کے ایک سرکاری پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر کو بھی ’لب پہ آتی ہے‘ پڑھانے کے باعث اسی تنظیم کے مقامی کارکنوں کی شکایت کے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔

انھوں نے الزام لگایا تھا کہ استاد نے طلبا کو ایک ’مذہبی دعا پڑھائی‘ جو عام طور پر مدرسوں میں پڑھی جاتی ہے۔

اسی طرح اگست میں کانپور میں ایک سکول کے منتظم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا کیونکہ مبینہ طور پر سکول میں صبح کی اسمبلی میں کلمہ طیبہ پڑھایا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے طلبا کو کلمہ پڑھنے کے لیے مجبور کیا تھا۔

حالانکہ انھوں نے دعویٰ کیا کہ صبح کی اسمبلی میں اسلام کے علاوہ ہندو، سکھ اور عیسائی عقیدے کی دعائیں بھی پڑھائی جاتی ہیں۔

واضح کر دیں کہ انڈیا کے کئی ریاستوں میں ہندو عقیدے کی مقدس کتاب گیتا سکولوں میں پڑھائی جاتی ہے اور مزید کئی ریاستیں اسے اپنے سکولوں میں متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

سینیئر صحافی راجدیپ سردیسائی نے ’لب پہ آتی ہے‘ تنازعے پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ یہ مشہور ’دون پبلک سکول‘ میں، جہاں انڈیا کے امیر ترین اور اشرافیہ طبقے کے طلبا پڑھتے ہیں، بھی پڑھایا جاتا ہے۔ انھوں نے لکھا ’یہ کہاں آگئے ہم۔ افسوس ناک۔‘

ایک اور صارف نے یہ نشاندہی کی کہ اس کا استعمال ’ویلہم‘ میں بھی ہوتا ہے۔ ’دون‘ کی طرح ہی ویلہم میں بھی ملک کے اشرافیہ طبقے کے طلبا پڑھتے ہیں۔

انھوں نے لکھا کہ ’سکول اسمبلی میں ’لب پہ آتی ہے‘ پڑھایا جانا ایک عام سی بات ہے۔ یہ کیسی افسوسناک حالت ہے۔ یہ لوگ اتنے غیر محفوظ کیوں محسوس کرتے ہیں۔ یہ مایوس کن اقدامات ہیں۔‘

سیاست دان اور انڈیا کے سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی کے سابق مشیر سدھیندر کلکرنی نے کہا کہ ’میں بی جے پی میں سمجھدار لوگوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ سمجھیں اور بولیں کہ یوپی میں سکول کی پرنسپل کو معطل کرنا غلط، احمقانہ اور انڈیا مخالف ہے۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *