نمز اور جنوبی کوریائی ویکسین انسٹی ٹیوٹ کا پاکستان میں ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری میں اشتراک کار پر اتفاق

نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (نمز) اور انٹرنیشنل ویکسین انسٹی ٹیوٹ (آئی وی آئی) جنوبی کوریا نے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پاکستانی سائنسدانوں کی استعداد کار میں اضافے کے ذریعے ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری میں تعاون کرنے پر اتفاق کیاہے۔

یہ اتفاق رائے نمز کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل وسیم عالمگیر کی قیادت میں ایک وفد کی انٹرنیشنل ویکسین انسٹی ٹیوٹ ‘جنوبی کوریا کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر جیروم ایچ کم کی اپنی ٹیم کے ہمراہ منگل کو سیول میں ہونے والی ملاقات کے بعد پایا گیا۔سیئول سے یہاں موصولہ ایک پیغام میں کہا گیا کہ دونوں فریقیں نے پاکستان کے سائنسدانوں کے ایک گروپ کے لیے موقع پر تربیت کے ساتھ ساتھ ویکسین کی تیاری کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی سمیت استعداد کار میں اضافے کے شعبوں میں تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔

اس موقع پر وائس چانسلر نے ڈاکٹر جیروم ایچ کم کو شیلڈ پیش کی جبکہ نمز کی ڈین فیکلٹی آف ملٹی ڈسپلنری سٹڈیز ڈاکٹر پروفیسر عائشہ محی الدین اور کنسلٹنٹ سٹریٹجک پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ جاوید اختر بھی اس موقع پر موجود تھے۔دریں اثناء ایک اور اقدام تحت نمز اور یونیورسٹی آف “موسٹار “بوسنیا اور ہرزیگووینا کے درمیان سائنسی تحقیق اور تدریسی تعاون کو فروغ دینے کے لیے سوموار کو موسٹار (سراجیوو) میں منعقدہ ایک تقریب میں مفاہمت کی دستاویز طے پائی جس پر وائس چانسلر نمزلیفٹیننٹ جنرل وسیم عالمگیر اور ریکٹر بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا یونیورسٹی آف موسٹار پروفیسر زوران ٹومک نے بوسنیا کے گذشتہ دورے کے دوران دستخط کیے تھے۔

بوسنیا اور ہرزیگوینا میں پاکستان کے سفیر میجر جنرل (ر) اختر جمیل رائو ‘ڈین نمز فیکلٹی آف ملٹی ڈسپلنری سٹڈیز ڈاکٹر پروفیسر عائشہ محی الدین اور ڈاکٹر لالہ رخ کنسلٹنٹ کلینیکل ٹرائل یونٹ (سی ٹی یو) بھی اس موقع پر موجود تھے۔مفاہمت کی یادداشت باہمی تعاون کے شعبوں اور امور کے ساتھ ساتھ اس کے نفاذ کے طریقوں کی حامل ہے۔یادداشت کے تحت دونوں جامعات باہمی بنیاد پردوسری یونیورسٹی میں تدریس یا لیکچر دینے کے مقصد کے ساتھ یونیورسٹی سٹاف کے تبادلے میں شرکت کے لیے اپنے عملے کا انتخاب کر سکتی ہیں ۔

دونوں فریقین نے ایک مخصوص مدت کے لیے لیکچرز یا مشاورت کے لیے دوسری یونیورسٹی کے پروفیسرز کو بلانے یا اپنے اپنے اداروں میں مطالعہ یا تحقیق کو بہتر بنانے کے لیے اپنے ایک یا زیادہ ملازمین کو باہمی دوروں کے لیے منتخب کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ مفاہمت کی یاداشت کے تحت یونیورسٹیاں انڈرگریجویٹ یا گریجویٹ تعلیم میں سٹڈی کے مناسب شعبوں میں طلباء کا تبادلہ کرسکیں گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *