ملک کے تعلیمی اور امتحانی نظام کی تشکیل نو ناگزیر ہے، ٹیکنالوجیز مختلف بیماریوں کی بہتر تشخیص میں معالجین کی مدد کر سکتی ہیں ،صدر عارف علوی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے طب، انجینئرنگ اور آئی ٹی سمیت مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں ملک کے پورے تعلیمی اور امتحانی نظام کی تشکیل نو کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معیاری انسانی وسائل پیدا کرنے کیلئے ملک کے امتحانی نظام کو بین الاقوامی معیار کے برابر لانے اور اس کی تشکیل نو کرنے کی ضرورت ہے۔صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو کراچی میں کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان میں انٹرنیشنل میڈیکل ایجوکیشن کانفرنس 2023 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میں طب کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد اور 13 مختلف ممالک کے 33 مندوبین نے شرکت کی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بین الاقوامی مندوبین کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں شرکت کی۔ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے ملک میں تعلیمی معیار میں گراوٹ پر افسوس کا اظہار کیا اور ملک بھر میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے بروقت اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ دانشوروں اورپاکستان کے اعلی تعلیم یافتہ طبقے کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان خصوصا نوجوانوں کی فکری ترقی پر خصوصی توجہ دیں اور ان پر سرمایہ کاری کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بین الاقوامی معیار کے اداروں کی تشکیل کے لیے کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔

صدر مملکت نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی کی وجہ سے پورے نظام تعلیم میں تبدیلی آرہی ہے ۔ پرانا میڈیکل تعلیمی نظام معلومات یاد رکھنے پر زیادہ مبنی تھا اور اب ٹیکنالوجی کی وجہ سے نئے نظام میں فہم اور تجزیہ پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ، تصویروں اور معلومات کی پہچان کرنے والی ٹیکنالوجیز مختلف بیماریوں کی بہتر تشخیص میں معالجین کی مدد کر سکتی ہیں اور مختلف بیماریوں کی تمام علامات کو یاد رکھنے کی ضرورت کو بھی کم کر سکتی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ تاہم یہ ٹیکنالوجی اپنے چیلنجوں کے بغیر نہیں اور چیٹ جی پی ٹی جیسے زبان کے ماڈلز اور چیٹ بوٹس میں پیشرفت سے تعلیمی شعبے میں کام کے معیار اور مقالہ جات اور تحقیق کی صداقت اور اصلیت پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ دنیا بھر میں فیصلہ ساز مختلف شعبوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی رفتار کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہیں اور انہیں طب سمیت مختلف شعبوں میں تیز رفتار ترقی کے لیے تیز رفتار فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو بھی بروقت فیصلے کرنے، اپنے نظام کو تازہ کرنے اور تمام شعبوں خصوصا آئی ٹی کے شعبے میں تیز رفتار تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے ادارے بنانے کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت نے امتحانی نظام میں بہتری لانے کے لیے انٹرویو کے عمل میں انسانی تعصبات پر قابو پانے کے لیے اعداد و شمار کے استعمال پر بھی زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امتحانی عمل پر بھی تحقیق کی جانی چاہیے اور معیاری اور بہتر تربیت یافتہ پیشہ ور افراد پیدا کرنے کے لیے فرسودہ طریقوں کو جدید طریقوں سے تبدیل کیا جانا چاہیے۔

ورچوئل یونیورسٹی اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے ملک میں تعلیم فراہم کرنے کے روایتی ذرائع کے ساتھ ساتھ آن لائن اور ہائبرڈ تعلیمی نظام متعارف کرانے پر زور دیا تاکہ مختصر وقت میں گریجویٹس کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکے۔صدر مملکت نے 1962 سے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی طب کے شعبے میں شاندار خدمات کو بھی سراہا ۔