طالبان کا اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پر پابندی کا معاملہ، احتجاج کرنے پر خواتین گرفتار

افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سےخواتین کی یونیورسٹیوں پر پابندی کے خلاف احتجاج کرنے پر طالبان انتظامیہ نے کئی خواتین کو گرفتار کر لیا۔

کابل میں طالبان حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین کے ساتھ ساتھ 3 صحافیوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

گزشتہ برس اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد لڑکیوں کے اسکولز بند کرنے کے بعد طالبان حکومت کی تازہ پالیسی کے تحت خواتین کے اعلیٰ تعلیمی ادارے بند کرنے کے اعلان کے بعد اگلے ہی روز سیکڑوں خواتین نےفیصلہ کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔

احتجاج کرنے والی خواتین نے پابندی کے باوجود یونیورسٹیوں میں داخل ہونے کی بھی کوشش کی تاہم یونیورسٹیوں پر تعینات گارڈز نے خواتین کو یونیورسٹیوں میں داخلے سے روک دیا تھا۔

واضح رہے کہ افغان وزارت اعلیٰ تعلیم کے وزیر نے لیٹر جاری کرتے ہوئے تمام نجی اور سرکاری جامعات کو تاحکم ثانی خواتین کی تعلیم معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔

وزارت اعلیٰ تعلیم کا کہنا تھا کہ ان کے علماء کی جانب سے یونیورسٹیوں کے نصاب اور ماحول کا جائزہ لیا گیا ہے اور لڑکیوں کیلئے مناسب ماحول کے قیام تک لڑکیوں کی یونیورسٹیوں میں حاضری پر پابندی لگائی گئی ہے۔

افغان وزیر تعلیم برائے اعلیٰ تعلیم ندا محمد ندیم نے سرکاری ٹی وی پر فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ لڑکیوں کے یونیورسٹیوں میں داخلے پر پابندی اس وجہ سے لگائی جا رہی ہے کہ وہ یونیورسٹی میں ڈریس کوڈ پر عمل نہیں کرتی ہیں، وہ ایسے کپڑے پہن کر یونیورسٹی جاتی ہیں جیسے شادی پر جا رہی ہوں۔

طالبانی وزیر کے فیصلے کے خلاف افغان خواتین کی جانب سے کابل یونیورسٹی کے باہر بڑا احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم طالبان انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی کے باہر بھاری نفری تعینات کرنے کے بعد مظاہرین نے اپنے احتجاج کی جگہ تبدیل کر دی تھی۔

طالبان انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے والی چند خواتین کا کہنا تھا کہ طالبان کی خواتین سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے انہیں گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایک خاتون نے غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ احتجاج کے دوران ان کے درمیان طالبان انتظامیہ کی کافی خواتین موجود تھیں جنہوں نے مظاہرے میں شریک خواتین پر نہ صرف تشدد کیا بلکہ انہیں گرفتار بھی کرلیا تھا۔

ایک خاتون کا کہنا تھا مظاہرے کے دوران انہیں بھی گرفتار کرنے کیلئے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا تاہم کسی طرح وہ گرفتاری سے بچنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

ایک اور خاتون نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے کافی لوگوں کو گرفتاری کے بعد رہا کر دیا گیا تھا تاہم اب بھی کافی سارے لوگ طالبان کے پاس گرفتار ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *